وقت کی مسافت اور انسان

کہتے ہیں

 کہ وقت سے بڑا ظالم کوئی نہیں لیکن دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ وقت سے بڑا مرہم کوئی نہیں

 میں کبھی نہیں سمجھ سکی کہ وقت ظالم ہے یا وقت مرہم ہے ہاں اکثر جب وقت لوگوں کے منافقت کی پرت میں چھپے ہوئےشناسا سے چہرے دکھانے شروع کر دیتا ہے تو وہ ظلم انسان کبھی نہیں بھول پاتا پر وہی وقت جب اپنے ہی دیے ہوئے زخموں پر مرہم لگانا شروع کرتا ہے مرہم لگانا تو نہیں کہہ سکتے لیکن ہاں وہ اپ کو اہستہ اہستہ صبر سکھا دیتا ہے اس زخم کو بھرتا نہیں ہے لیکن اپ کو اس کے ساتھ رہنا سکھا دیتا ہے کہ اس کے ہونے نہ ہونے سے اپ کو فرق پڑنا ختم ہو جاتا ہے اور یوں زندگی سہل لگنے لگتی ہے

وقت کی اہمیت کا  اندازہ اس بات سی بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی یہ پیچھا نھیں چھوڑتا بلکہ اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا اس پر تو اللہ پاک نے قرآن میں ایک پوری سورہ لکھ دی ہے

والعصر یعنیٰ وقت یا زمانہ

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

قسم ہے زمانے کی ﴿۱﴾ بے شک انسان بڑے گھاٹے میں ہیں ﴿۲﴾ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور اچھے کام کیئے اور ایک دوسرے کو حق بات کی نصیحت کرتے رہیں اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرتے رہیں ﴿۳﴾
 حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اپنے وقت کی قدر کرے، تو وہ اپنی زندگی میں بے پناہ منافع وفوائد حاصل کر سکتا ہے اور اپنے سرمایہ سے خوب نفع اٹھا سکتا ہے۔ اس کے برخلاف جو شخص اپنا وقت ضائع کرے، تو وہ اپنا سرمایہ کھو دےگا اور بہت خسارہ اٹھائےگا۔
وقت اور انسان کا اتنا گہرا تعلق ہے کہ انسان ہمیشہ سے وقت کا مسافر رہا ہے جب پیدا ہوتا ہے تو وقت اسے بہت حسین رشتے، حسین دنیا سب حسین دکھاتا ہے لیکن آہستہ آہستہ جب وہ بڑا ہونا شروع ہوتا ہے اور بچپن میں جاتا ہے تو بہت سی یادیں پیدائش کی مٹا دیتا ہے ان یادوں کو مٹانے کے ساتھ صرف چند چہرے ،چند باتیں، چند رویے بس یاد رہتے ہیں بچپن سے گزرتے ہی جیسے ہی انسان جوانی میں قدم رکھتا ہے تو وقت اسے نشہ دیتا ہے جوانی کا نشہ، طاقت کا نشہ، وقت کا نشہ اور اس نشے میں انسان الہڑ اور مغرور  بن جاتا ہے ایک ایسا انسان جو سوچتا ہے کہ وہ سب کر سکتا ہے وہ ہر چیز حاصل کر سکتا ہے وہ دریا عبور کر سکتا ہے وہ لڑ سکتا ہے لیکن وقت جب اپنی اصلیت پہ اتا ہے اور اسے اس کے ساتھ کے لوگوں کے چہرے دکھاتا ہے اور پھر اس سے وہ جوانی کا نشہ طاقت کا نشہ سب اہستہ اہستہ چھیننا شروع کر دیتا ہے تب انسان کو پتہ لگتا ہے کہ 
وقت کے چار نقطے بچپن جوانی بڑھاپے سب کے نقطوں پر حسن کے نقطوں پر بھاری ہے


 جوانی کی چند ایک یادوں کے علاوہ وقت انسان کے پاس کچھ بھی نہیں چھوڑتا پھر جس وقت کے حصے میں وہ داخل ہوتا ہے وہاں بھی وقت اس کا  پیچھا نہیں چھوڑتا بلکہ اسے کاش میں الجھا دیتا ہے اسے کاش میں لپیٹ لیتا ہے 

کاش اپنے اس جوانی کے غرور میں میں نے یہ نہ کیا ہوتا
 کاش اس وقت میں سمجھ جاتا
 کاش میں نے کسی کی زندگی سے نہ کھیلا ہوتا

 اس عمر تک پہنچتے پہنچتے انسان بہت کچھ گنوا چکا ہوتا ہے اور یہ سب کس کی مہربانی ہوتی ہے وقت کی اور جو بچتا ہے بس

اگر مگر اور کاش میں لپٹی زمہ داریوں کے بوجھ تلے دبی زندگی

لیکن یہاں بھی بس نہیں ہوتی اہستہ اہستہ ہر نشہ ذمہ داریوں کے بوجھ کے نیچے دب جاتا ہے جوانی ماند پڑنے لگتی ہے چہرے پہ جھریاں جسم سے ماس الگ ہونا شروع ہوتا ہے اہستہ اہستہ حسن واپس مٹی کے ڈھیر میں ڈھلنا شروع ہوتا ہے وہ حسن جس پہ جوانی میں مان تھا جس کے نشے میں وقت نے ایسا دھت رکھا تھا وہی حسن اب انسان سے دور ہونا شروع ہوتا ہے انسان اپنے بڑھاپے کی طرف جاتا ہے پھر وقت کا ظلم دیکھیں کہ وہ اپنے مسافر کو اس کی جوانی کی بچپن کی صاف غلطیاں یاد کرواتا ہے وہ اسے بتاتا ہے فلاں وقت تو نے فلاں بندے کے ساتھ یہ کیا تھا اور تب احساس ندامت انسان کو ایسے گھیر لیتا ہے کہ وہ سب ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ گڑگڑاتا ہے وہ معافیاں مانگتا ہے وہی وقت جو جوانی میں اسے اس کے عروج  تک لے کے گیا تھا اسے اس کے رب سے دور کر دیا وہی وقت اب اسے مصلے تک لے آتا ہے دعائیں منگواتا ہے

اور تب انسان کو وہ تمام رشتے واپس چاہیے ہوتے ہیں جو اس نے جوانی میں ٹھوکر مار کر پیچھے کیے ہوتے ہیں پھر وقت کا ستم ایک اور صحیح آہستہ آہستہ انسان ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے

اس کے بعد انسان اپنے اخری سفر کی طرف روانہ ہو جاتا ہے اخری سفر کی طرف روانہ ہوتے ہوئے وہ اپنے ساتھ بہت سی یادیں بہت سے لوگوں کے چہرے بہت سے احساس ندامت بہت سی خوشیاں بہت سی چیزیں اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے 

دیکھیں جیسے ہی انسان اپنے اخری سفر پر روانہ ہو جاتا ہے وقت اس کی یاد کو زندگیوں سے مٹانا شروع کر دیتا ہے 

وہ لوگ جنہوں نے اچھے کام کیے ہوتے ہیں وہ بہت لمبی زندگی جیتے ہیں لوگوں کے دلوں میں ذہنوں میں
 کچھ کی کرواہٹیں یاد رہ جاتی ہیں 
کچھ کی تلخیاں یاد رہ جاتی ہیں
 کچھ سے جڑی چبھن یاد رہ جاتی ہے
 اور کچھ سے جڑی خوشیاں

 ایک ہفتے تک ایسا لگتا ہے کہ وہ انسان آس پاس ہے ہر جگہ اس کی کمی محسوس ہوتی ہے ہر جگہ اس کی موجودگی محسوس ہوتی ہے لیکن ہفتے دو ہفتے تین ہفتے بعد اہستہ اہستہ وقت انسان کو دوسرے انسان کی یادوں کے ساتھ رہنا سکھا دیتا ہے پھر اس کی یاد بھی اس کی طرح عید شب رات پر آتی ہے آہستہ آہستہ وہ عید شب رات پر انے والی یاد سالہ سال میں بدل جاتی ہے اور دوسری طرف وہ انسان اپنی قبر میں اس کا جسم سے اس کی ہڈیاں صرف مٹی میں رہ جاتی ہیں باقی سب مٹی اپنے ساتھ لے جاتی ہے یوں وقت ایک انسان کو اپنے مسافر کو اس کی آخری آرام گاہ میں ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلا جاتا ہے 

اب میں نہیں جانتی کہ وقت ظالم ہے یا وقت مرہم ہے اور میں اتنا جانتی ہوں وقت وقت ہے جو کبھی بھی ڈھل سکتا ہے یا آپ کو کہیں بھی لے جا سکتا ہے جو آپ کو اگر مگر کاش میں لپیٹ کر آپ سے آپ کی خوشیاں چھین سکتا ہے لیکن وہیں آپ کو چھوٹی چھوٹی خوشیاں دے کر آپ کی زندگی کو خوشگوار بنا سکتا ہے تو وقت کے ساتھ رہنا سیکھیں وقت کے ساتھ چلنا سیکھیں ذمہ داریوں کے بوجھ میں وقت کو پیچھے نہ چھوڑیں جوانی کے نشے میں اپنے آپ کو گواہ نہ بیٹھیں کہ بڑھاپے میں آپ کو لوگوں سے معذرت کرنی پڑ جائے اپنی زندگی کو خوشحال بنائیں جیسی ہونی چاہیے جیسی ہر انسان نے سوچی ہو وقت کے رحم و کرم پہ رہیں گے تو وقت صرف رحم نہیں کرتا وقت بہت بے رحم بھی ثابت ہوتا ہے۔


Comments

  1. Beautifully done 👍✅

    ReplyDelete
  2. ہمیشہ کی طرح بہترین لکھا ہوا

    ReplyDelete
  3. زبردست.. کمال است 👌

    ReplyDelete
  4. وقت بدلنے والی چیز ہے۔ جن لوگوں سے ہم گلہ کرتے ہیں کہ آپ بدل گئے ہیں دراصل وقت کے بدلنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنا طرزِ عمل بدل لیتے ہیں اور ہم بے وفائی کے شکوے کرنے لگتے ہیں ۔۔۔۔اچھا وقت مرہم اور کڑا وقت زخم جیسا ہوتا ہے۔
    nikko

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

The Quiet Power of Everyday Moments

Motherhood: A Journey of Silent Strength and Endless Love

Grace ANd DiGnItY of MAN.....