وقت کی مسافت اور انسان
کہتے ہیں
کہ وقت سے بڑا ظالم کوئی نہیں لیکن دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ وقت سے بڑا مرہم کوئی نہیں
میں کبھی نہیں سمجھ سکی کہ وقت ظالم ہے یا وقت مرہم ہے ہاں اکثر جب وقت لوگوں کے منافقت کی پرت میں چھپے ہوئےشناسا سے چہرے دکھانے شروع کر دیتا ہے تو وہ ظلم انسان کبھی نہیں بھول پاتا پر وہی وقت جب اپنے ہی دیے ہوئے زخموں پر مرہم لگانا شروع کرتا ہے مرہم لگانا تو نہیں کہہ سکتے لیکن ہاں وہ اپ کو اہستہ اہستہ صبر سکھا دیتا ہے اس زخم کو بھرتا نہیں ہے لیکن اپ کو اس کے ساتھ رہنا سکھا دیتا ہے کہ اس کے ہونے نہ ہونے سے اپ کو فرق پڑنا ختم ہو جاتا ہے اور یوں زندگی سہل لگنے لگتی ہے
وقت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سی بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی یہ پیچھا نھیں چھوڑتا بلکہ اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا اس پر تو اللہ پاک نے قرآن میں ایک پوری سورہ لکھ دی ہے
والعصر یعنیٰ وقت یا زمانہ
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
وقت کے چار نقطے بچپن جوانی بڑھاپے سب کے نقطوں پر حسن کے نقطوں پر بھاری ہے
جوانی کی چند ایک یادوں کے علاوہ وقت انسان کے پاس کچھ بھی نہیں چھوڑتا پھر جس وقت کے حصے میں وہ داخل ہوتا ہے وہاں بھی وقت اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا بلکہ اسے کاش میں الجھا دیتا ہے اسے کاش میں لپیٹ لیتا ہے
کاش اپنے اس جوانی کے غرور میں میں نے یہ نہ کیا ہوتا
کاش اس وقت میں سمجھ جاتا
کاش میں نے کسی کی زندگی سے نہ کھیلا ہوتا
اس عمر تک پہنچتے پہنچتے انسان بہت کچھ گنوا چکا ہوتا ہے اور یہ سب کس کی مہربانی ہوتی ہے وقت کی اور جو بچتا ہے بس
اگر مگر اور کاش میں لپٹی زمہ داریوں کے بوجھ تلے دبی زندگی
لیکن یہاں بھی بس نہیں ہوتی اہستہ اہستہ ہر نشہ ذمہ داریوں کے بوجھ کے نیچے دب جاتا ہے جوانی ماند پڑنے لگتی ہے چہرے پہ جھریاں جسم سے ماس الگ ہونا شروع ہوتا ہے اہستہ اہستہ حسن واپس مٹی کے ڈھیر میں ڈھلنا شروع ہوتا ہے وہ حسن جس پہ جوانی میں مان تھا جس کے نشے میں وقت نے ایسا دھت رکھا تھا وہی حسن اب انسان سے دور ہونا شروع ہوتا ہے انسان اپنے بڑھاپے کی طرف جاتا ہے پھر وقت کا ظلم دیکھیں کہ وہ اپنے مسافر کو اس کی جوانی کی بچپن کی صاف غلطیاں یاد کرواتا ہے وہ اسے بتاتا ہے فلاں وقت تو نے فلاں بندے کے ساتھ یہ کیا تھا اور تب احساس ندامت انسان کو ایسے گھیر لیتا ہے کہ وہ سب ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ گڑگڑاتا ہے وہ معافیاں مانگتا ہے وہی وقت جو جوانی میں اسے اس کے عروج تک لے کے گیا تھا اسے اس کے رب سے دور کر دیا وہی وقت اب اسے مصلے تک لے آتا ہے دعائیں منگواتا ہے
اور تب انسان کو وہ تمام رشتے واپس چاہیے ہوتے ہیں جو اس نے جوانی میں ٹھوکر مار کر پیچھے کیے ہوتے ہیں پھر وقت کا ستم ایک اور صحیح آہستہ آہستہ انسان ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے
اس کے بعد انسان اپنے اخری سفر کی طرف روانہ ہو جاتا ہے اخری سفر کی طرف روانہ ہوتے ہوئے وہ اپنے ساتھ بہت سی یادیں بہت سے لوگوں کے چہرے بہت سے احساس ندامت بہت سی خوشیاں بہت سی چیزیں اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے
دیکھیں جیسے ہی انسان اپنے اخری سفر پر روانہ ہو جاتا ہے وقت اس کی یاد کو زندگیوں سے مٹانا شروع کر دیتا ہے
وہ لوگ جنہوں نے اچھے کام کیے ہوتے ہیں وہ بہت لمبی زندگی جیتے ہیں لوگوں کے دلوں میں ذہنوں میں
کچھ کی کرواہٹیں یاد رہ جاتی ہیں
کچھ کی تلخیاں یاد رہ جاتی ہیں
کچھ سے جڑی چبھن یاد رہ جاتی ہے
اور کچھ سے جڑی خوشیاں
ایک ہفتے تک ایسا لگتا ہے کہ وہ انسان آس پاس ہے ہر جگہ اس کی کمی محسوس ہوتی ہے ہر جگہ اس کی موجودگی محسوس ہوتی ہے لیکن ہفتے دو ہفتے تین ہفتے بعد اہستہ اہستہ وقت انسان کو دوسرے انسان کی یادوں کے ساتھ رہنا سکھا دیتا ہے پھر اس کی یاد بھی اس کی طرح عید شب رات پر آتی ہے آہستہ آہستہ وہ عید شب رات پر انے والی یاد سالہ سال میں بدل جاتی ہے اور دوسری طرف وہ انسان اپنی قبر میں اس کا جسم سے اس کی ہڈیاں صرف مٹی میں رہ جاتی ہیں باقی سب مٹی اپنے ساتھ لے جاتی ہے یوں وقت ایک انسان کو اپنے مسافر کو اس کی آخری آرام گاہ میں ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلا جاتا ہے
اب میں نہیں جانتی کہ وقت ظالم ہے یا وقت مرہم ہے اور میں اتنا جانتی ہوں وقت وقت ہے جو کبھی بھی ڈھل سکتا ہے یا آپ کو کہیں بھی لے جا سکتا ہے جو آپ کو اگر مگر کاش میں لپیٹ کر آپ سے آپ کی خوشیاں چھین سکتا ہے لیکن وہیں آپ کو چھوٹی چھوٹی خوشیاں دے کر آپ کی زندگی کو خوشگوار بنا سکتا ہے تو وقت کے ساتھ رہنا سیکھیں وقت کے ساتھ چلنا سیکھیں ذمہ داریوں کے بوجھ میں وقت کو پیچھے نہ چھوڑیں جوانی کے نشے میں اپنے آپ کو گواہ نہ بیٹھیں کہ بڑھاپے میں آپ کو لوگوں سے معذرت کرنی پڑ جائے اپنی زندگی کو خوشحال بنائیں جیسی ہونی چاہیے جیسی ہر انسان نے سوچی ہو وقت کے رحم و کرم پہ رہیں گے تو وقت صرف رحم نہیں کرتا وقت بہت بے رحم بھی ثابت ہوتا ہے۔
Beautifully done 👍✅
ReplyDeleteہمیشہ کی طرح بہترین لکھا ہوا
ReplyDeleteAwesome
ReplyDeleteSuperb
ReplyDeleteزبردست.. کمال است 👌
ReplyDeleteوقت بدلنے والی چیز ہے۔ جن لوگوں سے ہم گلہ کرتے ہیں کہ آپ بدل گئے ہیں دراصل وقت کے بدلنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنا طرزِ عمل بدل لیتے ہیں اور ہم بے وفائی کے شکوے کرنے لگتے ہیں ۔۔۔۔اچھا وقت مرہم اور کڑا وقت زخم جیسا ہوتا ہے۔
ReplyDeletenikko